13 نومبر 2014 - 11:50
داعش اور جند اللہ میں رابطے کا انکشاف

دہشت گرد گروہ جنداللہ نے کہا ہے کہ داعش کے ایک وفد نے بلوچستان میں ان کی قیادت سے ملاقات کی تھی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  دہشت گرد گروہ جنداللہ کے ترجمان فہد مروت کا کہنا ہے کہ ملاقات رواں ہفتے ہوئی جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ داعش کس طرح پاکستانی دہشت گرد گروہوں کو متحد کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جند اللہ طالبان کی ایک شاخ ہے اور رواں ہفتے ہی طالبان نے داعش کے ساتھ اتحاد کے اعلان پر اپنے ترجمان شاہد اللہ شاہد کو برطرف کر دیا تھا۔

اس سے پہلے پاکستان میں بلوچستان کی صوبائی حکومت نے وفاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک خفیہ رپورٹ ارسال کرکے داعش دہشت گرد گروہ کے اثررسوخ بڑھنے کا انتباہ دیا تھا۔

21 اکتوبر کو ارسال کی گئی مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ داعش کا کہنا ہے کہ وہ ہنگو اور کرم ایجنسی میں دس سے بارہ ہزار تک اپنے حامیوں کو بھرتی کرچکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق داعش نے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے جواب میں خیبرپختونخوا میں فوجی تنصیبات اور حکومتی عمارتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے جبکہ وہ شعیہ برادری کو بھی ہدف بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے منگل کو ملک میں داعش کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نام سے کوئی تنظیم پاکستان میں موجود نہیں ہے جبکہ علاوہ کراچی اور خانيوال سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں داعش کی حمایت میں وال چاكنگ بھی کئی دنوں سے دیکھی جا رہی ہے۔

ادھر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے لاہور کے فارم ہاؤس سے 15 کلومیٹر دور دیواروں پر داعش کے پوسٹر اور اسٹيكر لگے ملے ہیں۔  اس کے بعد لاہور پولیس نے تفتیش شروع کر دی۔  پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹر اور اسٹيكر نظر آنے کے بعد کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ۔

.......

/169